بنگلورو،11؍دسمبر(ایس او نیوز) کرناٹک میں انسداد گؤ کشی قانون منظور کروانے کیلئے ریاست کی بی جے پی حکومت کو جمعرات کے روز اس وقت شدید دھکا پہنچا جب ریاستی لجسلیٹو کونسل میں اس بل کے نامنظورہوجانے کے خوف سے ایوان بالا میں بل ہی پیش نہیں کی-
بتایا جاتا ہے کہ اس بل کو ناکام بنانے کی حکمت عملی کے تحت کانگریس اور جے ڈی ایس اراکین نے متحد ہو کر اس کی مخالفت کرنے کا فیصلہ لیا اور ایوان میں جب بل پیش کرنے کا مرحلہ آیا تو یہاں کانگریس اور جے ڈی ایس اتحاد کے 37؍اراکین موجود تھے جبکہ بی جے پی کے صرف 31؍اراکین، جس کے سبب کارروائی کے آخری مرحلہ میں وزیر برائے مزرائی اور ایوان بالا میں بی جے پی کے لیڈر کوٹا سرینواس پجار نے انسداد گؤ کشی بل کل پیش کرنے کی بات کہی-
انہوں نے کہا کہ حکومت کی طر ف سے یہ بل ایوان میں کل پیش کی جا سکے گا- اس مرحلہ میں ایوان کے چیر مین پرتاپ چندرا شیٹی نے کارروائی کو غیر معیہ مدت کیلئے یہ کہہ کر ملتوی کردیا کہ ریاست میں گرام پنچایت انتخابات کیلئے نافذ ضابطہ اخلاق کے سبب حکومت نے یہ طے کیا ہے کہ ایوانوں کی کارروائی کو 10دسمبر تک ملتوی کردیا جائے اس سلسلہ میں الیکشن کمیشن کو بھی مطلع کیا جا چکا ہے اس لئے کارروائی کو بے مدت ملتوی کیا جا رہا ہے-
اس سے قبل اسمبلی میں اس قانون کی منظوری کے بعد کئی حلقوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی تھی تاہم کانگریس اور جے ڈی ایس کے سرکردہ قائدین کے مابین تال میل کے نتیجے میں اس بل کوایوان بالامیں منظور ہونا تو دور کی بات پیش ہونے بھی نہیں دیا گیا-
ایوان میں موجود سینئر اراکین سی ایم ابراہیم اور نصیر احمد نے اس بل کے پیش نہ ہوئے پر مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ عوامی مفاد، خاص طور پر اقلیتوں اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے تئیں اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دونوں پارٹیوں نے مشترکہ حکمت عملی اپنائی اور فرقہ پرست حکومت کی طرف سے لائے گئے عوام دشمن قانون کو پاس ہونے سے روک دیا - انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں بھی اس قانون کے خلاف اسی طرح کی جدوجہد جاری رہے گی-